ہمیں بھی یاد کر لینا چمن میں جب بہار آئے
میاں محمود الحسن بالاکوٹی
چمن میں بہار دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔۔۔۔ بیس سال قبل جب ہم نے اس گلشن کی بنیاد رکھی تو آنکھوں میں قسم قسم کے خواب تھے۔۔۔۔ تعلیمی اداروں میں دوسری طلباء تنظیموں کی سرگرمیاں دیکھتے۔۔۔۔اک ہوک سی دل میں اٹھتی۔۔۔۔ کہ کیا کبھی ہم بھی ایسی آزادی سے ان اداروں میں کام کر سکیں گے۔۔۔۔ ایک دوسرے کی ہمت بندھاتے۔۔۔۔۔ میں نے ایک موقع پر انھیں مولانا طارق جمیل صاحب کا ایک واقعہ سنایا۔۔۔۔ مولانا صاحب فرماتے ہیں کہ اسی کی دہائی کی بات ہے۔۔۔۔ میں تبلیغی جماعت کے ساتھ کوئٹہ گیا۔۔۔۔ ہم گشت کے لئے کوئٹہ کے نامی گرامی کالج گئے۔۔۔۔ مگر سیکیورٹی گارڈ نے ہمیں کالج میں نہ جانے دیا۔۔۔۔۔ بل کہ ہمیں کڑوی کسیلی سنائیں۔۔۔۔ ہم جل بھن کر رہ گئے۔۔۔۔ واپس مسجد میں آئے۔۔۔ میں نے اپنے امیر صاحب کو ساری روداد سنائی۔۔۔۔ اور ساتھ ہی دکھی لہجے میں کہا۔۔۔۔ کیا ایسا وقت بھی آے گا کہ ہم اشرافیہ کے اس طبقے میں بھی اپنی دعوت پیش کر سکیں گے؟ امیر صاحب نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا بیٹا استقامت کے ساتھ غریبوں میں اپنی محنت کرتے رہو۔۔۔۔ ایک وقت آئے گا کہ یہ سارے عہدے والے آپ کے قدموں میں بیٹھنے کو سعادت سمجھیں گے۔۔۔۔ وقت گزرتا گیا۔۔۔۔ ہم اپنی محنت میں لگے رہے۔۔۔۔۔ 1990 میں دوبارہ خواص کی جماعت کے ساتھ کوئٹہ جانا ہوا۔۔۔۔ دوسرے دن اس نامی گرامی کالج کے پرنسپل کی طرف سے کالج میں بیان کے لئے دعوت موصول ہوئی۔۔۔۔۔ کالج پہنچے تو پرنسپل صاحب سمیت سارا کالج استقبال کے لئے دیدہ دل فرشِ راہ کئے کھڑا تھا۔۔۔۔ میرے سامنے پندرہ بیس برس قبل کا منظر اور جماعت کے امیر صاحب کا قول آ گیا۔۔۔ کہ ہمت و حوصلے کے ساتھ اپنے حلقے میں کام کرتے رہو۔۔۔اللہ تعالیٰ ان سب کو آپ کے قدموں میں لائے گا۔۔۔۔ کچھ ایسا ہی منظر میری آنکھوں نے بھی دیکھا۔۔۔۔ ہم چھپ چھپا کے کسی کونے میں تربیتی نشست رکھتے۔۔۔۔ جامعہ کے خفیہ اہلکاروں کو خبر ہو جاتی۔۔۔نتیجتاً ہمیں نشست ملتوی کرنا پڑتی۔۔۔۔ پرانے دوست تو حالات کے زیر و بم سے آگاہی کی وجہ سے خاموش ہو جاتے۔۔۔۔ مگر نئے دوست تو دماغ چاٹتے۔۔۔۔ کیا یہ دین کا کام نہیں؟؟ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین صرف ہمارے ہیں؟؟ عصری اداروں کی سختی تو سمجھ میں آتی ہے مگر دینی مدارس کیوں ہم پر اتنی پابندیاں لگاتے ہیں؟دین کا کام ہے تو پھر چھپ کر کیوں کرتے ہیں؟دوست احباب ہمت و حوصلے کے ساتھ نظریاتی محنت میں جتے رہے۔۔۔۔ ہمت محنت جہد مسلسل کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے وہ دن بھی دکھایا کہ جنھیں لوگ اپنی مسجد مدرسے میں گھسنے نہیں دیتے تھے۔۔۔انھوں نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے سب سے بڑے ہال ” کنونشن سینٹر میں ”بین الاقوامی طلباء اجتماع” اس آن بان اور شان سے کروایا کہ کنونشن سینٹر میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔۔۔۔ ملکی و بین الاقوامی شخصیات مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کو بین الاقوامی طلباء تنظیم کے خطاب سے نوازا۔۔۔۔ سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں نے آج تک اتنا بڑا اور منظم طلباء اجتماع آج تک نہیں دیکھا۔۔۔۔ مولانا عبدالغفور حیدری عبداللہ گل و دیگر نے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کو ملک کا روشن مستقبل قرار دیا۔۔۔۔ ملکی و بین الاقوامی میڈیا براہ راست کوریج کرتا رہا۔۔۔۔ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔۔۔۔
مجھے یاد ہے کہ ہمیں اجلاس کے لئے دو دو دن سوچنا پڑتا کہ کہاں رکھیں۔۔۔۔ ہم عصر کے بعد پارکوں میں جمع ہوتے۔۔۔۔ طلباء کھیلتے اور ہم ڈرتے ڈرتے مشاورت مکمل کرتے۔۔۔۔ رسالے کی تقسیم اعصاب شکن مرحلہ ہوتا۔۔۔کہیں مخبری نہ ہو جائے۔۔۔۔۔ ہم اکثر فضائل سنا کر یہ خدمت کسی صوفی طالب علم سے لیتے۔۔۔۔۔اور خود جامعہ سے رخصت پر ہوتے۔۔۔۔ پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس میں درس قرآن کا پروگرام رکھا۔۔۔۔ یہ کسی بھی بڑے عصری تعلیمی ادارے میں ہمارا پہلا پروگرام تھا۔۔۔۔ عین موقع پر وہاں موجود بڑی طلباء تنظیم آڑے آ گئی۔۔۔۔ بات توں تکرار تک جا پہنچی۔۔۔۔ ہمیں پھر مجبوراً اپنا روایتی انداز اپنانا پڑا۔۔۔۔ ہم نے انھیں صاف کہہ دیا کہ آج یونیورسٹی میں ہمارا پروگرام روکا گیا تو یاد رکھنا ملک بھر میں آپ کے پروگرام بھی نہیں ہو سکیں گے۔۔۔۔ غرض اس نوعیت تک پہنچنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلے ہیں۔۔۔ ایسا ہی ایک واقعہ ایچ نائن کالج اسلام آباد میں پیش آیا۔۔۔۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا تربیتی اجتماع اسے دیگر طلباء تنظیموں سے ممتاز کرتا ہے۔۔۔۔ صوبائی اور مرکزی اجتماع میں صوبائی و مرکزی قیادت کا احتساب کے لئے کارکنوں کی عدالت میں پیش ہونا انہیں آئین و قانون کا پابند بناتا ہے۔۔۔ یہاں سے پاکستانی مسلمانوں کوصالح باصلاحیت اور محب وطن قیادت فراہم کی جاتی ہے۔۔۔۔ آج الحمدللہ بھرپور اور منظم طریقے سے ملک کے ہر چھوٹے بڑے تعلیمی ادارے میں غلبہ اسلام اور استحکام پاکستان کیلئے نوجوان مصروف عمل ہیں۔۔۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن طلباء کو استاد کا احترام درسگاہ کا تقدس اور غریب طلباء سے تعاون کا عملی درس دیتی ہے۔۔۔ اس گلشن کی آبیاری میں کتنی پاکیزہ جوانیاں کام آئی ہیں۔۔۔۔۔ کتنے ارمانوں کا خون ہوا ہے۔۔۔۔ میرے نونہال شاید اس تاریخ سے آگاہ نہ ہوں۔۔۔۔ لہذا اب اس گلشن کی حفاظت اور آبیاری امت کے نونہالوں کے ذمے ہے۔۔۔۔
جلتا ہے جن کا خون چراغوں میں رات بھر
ان غمزدوں سے پوچھ کبھی قیمت سحر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This field is required.

This field is required.