میرِ کارواں اِک مثالِ جاوداں
مولانامحمد طارق نعمان گڑنگی،مرکزی صدر اسلامک رائٹرز موومنٹ پاکستان
عزم و استقلال ہے شرط مقدم عشق میں
کوئی جادہ کیوں نہ ہو انسان اس پر جم رہے
موجودہ پرفتن دور میں خلوص، محبت و چاہت تعمیر و سیرت احساس و خدمت کے ساتھ نوجوانوں کو ظلمت کے اندھیروں سے نکال کر صراط مستقیم کا روشن رستہ دکھانے والی تنظیم مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ازحد خوبیوں کا مرکز گردانی جاتی ہے۔ اس انتشار زدہ دور میں نوجوانوں کا رحجان دین اسلام کی طرف گامزن کرنا، حسن اخلاق، موجودہ دور میں باطل سے لڑنا اور حق بات کہنا، مقصد حیات حاصل کرنا، خوشگوار زندگانی جینا، مقصد وجود حاصل کرنا اور دین و دنیا کی خیر پانا ہیرے تراش کر باشعور نوجوانوں کو موتیوں کی ایک درخشندہ لڑی میں پرونا مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی عام خوبیاں ہیں۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان دوسری تنظیموں کی نسبت الگ اور نمایاں خصوصیات کی حامل ہے ان میں سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اراکین بے داغ ماضی اور پاکیزہ قلب و جذبہ کے ساتھ تنظیم میں داخل ہوتے ہیں۔ اگرچہ دیگر طلبہ تنظیمیں بھی سرگرمِ عمل ہیں لیکن یہ وہ واحد تنظیم ہے جس کی شناخت غلبہ اسلام اوراستحکام پاکستان ہے۔یعنی پوری دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص قرآن و سنت کے نظام کی بالادستی جس کی عملی شکل تاریخ اسلامی میں دور خلافت راشدہ ہے لیکن قرآن و سنت کی بالادستی سے مقصود نہ صرف ریاستی استحکام کو ملحوظ رکھنا ہے بلکہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کااستحکام قرآن وسنت کی بالادستی میں ہی مضمر ہے۔اس تنظیم کا ہر نوجوان رکن دین کی محبت اور خدمت کے جذبہ کے ساتھ تنظیم میں شامل ہوتا ہے اور عہدہ، مراعات یا پیسے کی لالچ کے بغیر خدمات سرانجام دیتا ہے۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی دوسری انفرادی خصوصیت یہ ہے کہ اس تنظیم کا رکن نوجوان واجبات کی ادائیگی کے ساتھ اپنی انفرادی تربیت و تزکیہ پر بھی بھرپور توجہ دیتا ہے تاکہ باطنی کمالات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دے سکے۔ اس کے مقابلہ میں ایسی تنظیموں کا بھی قریب سے مشاہدہ کیا ہے جو دین کا نام استعمال کرتی ہیں لیکن انفرادی زندگی کی معنویت کو اہمیت نہیں دیتیں۔
انسان کا تعلق خواہ کسی بھی تنظیم سے ہو، نعرہ بازی اس کی جوانی کا تقاضہ ہے لیکن ایم ایس او پاکستان کے نوجوان صرف نعرہ بازی پر یقین نہیں رکھتے بلکہ شعور، آگہی اور معنویت کے ساتھ فرنٹ لائن پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ تنظیم کے تربیت یافتہ افراد انتہائی مضبوط ہو کر باہر آتے ہیں اور مشکلات کے باوجود ان کے پاؤں نہیں اکھڑتے۔کسی بھی تنظیم کے مضبوط ہونے اور معاشرہ میں مثبت کردار ادا کرنے کا تعلق اس کے نظریہ اور اراکین کے ایمان سے ہوتا ہے۔ ان دونوں کے بغیر تنظیم کا دستور اگرچہ باقی رہتا ہے لیکن اس کی روح ختم ہو جاتی ہے اور تنظیم کی تشکیل کے مقاصد فوت ہو جاتے ہیں۔ ایمان کے ساتھ بصیرت اور آگہی کا ہونا بہت ضروری ہے اور اگر عقل و معرفت کے ساتھ کسی راستہ کا انتخاب کیا جائے تو مشکلات کے باوجود قدم نہیں ڈگمگاتے اس لیے شاعر مشرق علامہ اقبال کہتے ہے:
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا قیام آج سے 23سال قبل 11جنوری 2002 کو عمل میں آیا تھا۔ تنظیم کے پہلے صدر یعنی ناظم اعلی قمر الزمان چوہدری تھے۔ 11جنوری 2024کو اس کا یوم تاسیس ہے۔ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان علمی درسگاہ ہے جو اقامت دین کی عکاسی کرتی ہے یہ نوجوانوں کا ایک ایسا اعلی تنظیمی ڈھانچہ ہے جس سے ہمیشہ خیر ہی خیر پھوٹتی ہے یہ ہمیشہ ذروں کو ستارہ کرتی ہے اور انہی ستاروں کو عظیم الشان کہکشاں کا حصہ بناتی ہے انہی بافکر و فقر کہکشوں کے گروہ سے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان اپنا ناظم چنتی ہے جو غلبہ اسلام اوراستحکام پاکستان کی فکر کے عین مطابق ہے۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان گدی نشست یا فرقہ وارانہ ٹولے پہ نہیں بلکہ حکم ربی اور اقامت دین کے فیصلوں کے مطابق اپنا ناظم اعلی منتخب کرتی ہے۔مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا اپنے ناظم کو خود منتخب کرنا اسے دوسرے سیاسی و دینی گروہوں اور تنظیموں سے منفرد اور جدا کرتا ہے یقینا اسی میں مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا حسن پوشیدہ ہے جو اسے فرقہ وارانہ، رنگ نسل اور ذات پات کے تاسف سے محفوظ رکھتا ہے۔اس لیے اقبال کہتا ہے:
؎ پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کو قائدانہ عزائم کا آغوش سمجھا جاتا ہے جس نے ازحد نوجوانوں کے کرداروں کو نکھارا اورمعاشرے کو بصورت ناظمین اعلی لاتعداد عظیم الشان ہستیوں سے نوازا جنہوں نے غلبہ اسلام اوراستحکام پاکستان کی جدوجہد میں نئی روح پھونکی، اپنے کردار و عمل اور جدوجہد سے غلبہ اسلام کو منبع نور کیا۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے عظیم الشان ستاروں پر جب قیادت کی ذمہ داری عائد کی جاتی ہے تو بجائے فخریہ شادمانی بجانے کے اپنی ذمہ داری کو بھانپتے ہوئے احساس و فکر سے رو دیتے ہیں کہ ناجانے یہ بوجھ کس قدر ہم پہ گراں گزرے۔ انہی ناظمین کے سامنے جب کوئی دوسرا ناظم منتخب کرلیا جاتا ہے تو پشماں ہونے کی بجائے روشن چمکتی آنکھیں لیے اپنے نئے ناظم اعلی کا استقبال اور اس کے حق میں نعرے بازی کرتے نظر آتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ آج سے ہمارے بھی ناظم اعلیٰ اور قائد یہی نومنتخب ناظم ہیں۔ ایسی ہی قیادت لیے شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم نے کہا:
نگہ بلند، سخن دلنواز جان پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے
قلب و نگاہ کی وجد اور احساس و کیفیات کے ساتھ یہ منظر قلب کو گرماتا ہوا روح کی تاثیر تک رسائی حاصل کرتا ہے اس روح میں اترے ہوئے لمحے کو میں نے جب جب بھی محسوس کیا تو لبوں پہ تبسم آیا،یہ منظر جس کی مہک پورے وجود کو معطر کرتی ہے اس کے دامن میں موجود افراد اس گلستان کے پھول ہوتے ہیں جن کی خوشبو خود بہار ہوتی ہے۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی قیادت سنبھانے والے سابقہ ناظمین اپنے اپنے تقرری دور میں ایک روشن باب منور کر کے جاتے ہیں جس کی چمک آج بھی قلب کو پرنور رکھتی ہے ان کے لیے یہ گزرے ہوئے لمحات اطمینان بخش ہوتے ہیں جنہوں نے نوجوانوں کی کردار سازی اور دین کی جدوجہد کے لیے یہ پل گزارے ہوتے ہیں۔
قمر الزمان چوہدری مرحوم،ملک مظہر جاوید ایڈوکیٹ،صفدر صدیقی،احمد معاویہ،محسن خان عباسی،رانا ذیشان اور سردار مظہر(تاحال ناظم اعلیٰ) یہ وہ ہستیاں ہے جن کے نور کو کوئی چاہ کے بھی کبھی بجھا نہ سکا ان عظیم لوگوں سے منسلک سنہری دور کی پرنور یادیں آج بھی قلب کو ترو تازہ اور روشن رکھتی ہیں۔ان تمام ناظمین کی محنت سے آج پاکستان کی کوئی یونیورسٹی یا کالج یا مدرسہ ایسا نہیں کہ جس میں ایم ایس او پاکستان موجود نہ ہو۔ طلبہ نہ صرف مستقبل کی قیادت ہوتے ہیں بلکہ کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے طلبہ کو وطنِ عزیز کا معمار قرار دیاتھا۔ ایثار و قربانی اور اخلاص کی شاہکار مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سے ہی یہ امید باندھی جاسکتی ہے۔
وطن عزیز اس وقت جن بحرانوں سے دوچار ہے اورجس طرح پاکستان کے نظریاتی تشخص کومسخ کرنے کے لیے نسل نو کے ذہنوں سے امت واحدہ کا تصور کھرچ دینے کی جو گھناؤنی سازش کی گئی ہے، اس کو ناکام بنانے کے لیے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا وجود بہت بڑی نعمت ہے۔
مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان بلاشبہ ملک و ملت کا وہ اثاثہ ہے جس پر اللہ تعالی کا جتنا شکر بجا لایا جائے کم ہے۔ ملک و ملت کو جب اور جہاں بھی ضرورت پڑی، مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے لاکھوں کارکنوں نے ہراول دستہ کا کردار ادا کیاہے اور نظریاتی سرحدوں کے ساتھ ساتھ جغرافیائی سرحدوں کا بھی بھر پور دفاع کیا۔نظریاتی و قومی وحدت، ملکی سلامتی، یکجہتی،آزادی اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی گرانقدر خدمات کا قوم نے ہمیشہ اعتراف کیاہے۔ اب بھی مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کو یہ کردار مزید جرات و بہادری سے انجام دینا ہے۔ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان میری اور میرے جیسے لاکھوں پاکستانیوں کی محسن ہے۔اس تنظیم نے ہمیں ہمیشہ اپنے خالق و مالک کی اطاعت گزاری سکھائی ہے۔
؎عطا اسلاف کا جذب دروں کر
شریک زمرہ لا یحزنوں کر
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں
مرے مولا مجھے صاحب جنوں کر
میری دعاہے کہ اللہ تعالی مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور اس کے کارکنان کو اسلام اور ملک و ملت کی خدمت کے بہترین مواقع اور توفیق عطا فرمائے(آمین)