منزل کے عہد کا 23واں سال
نصیر عثمانی،مانسہرہ
ہم نے بخشی ہے جوانوں کو نئی فکر
یہی فکر جوانوں کو ابھارے گی
یہی لوگ کریں گے میرے گلشن کا تحفظ
یہی سوچ جو بکھروں کو سنوارے گی
دنیا کی مثال اس گاڑی کی سی ہے جو مسلسل رواں دواں ہی رہتی ہے اور گاڑی کے سوار دو طرح کے ہوتے ہیں جن میں سے کچھ اپنے چھوٹے چھوٹے ٹھکانوں پر اتر جاتے ہیں اور کچھ ایسے سوار ہوتے ہیں جن کی منزل بہت دور ہوتی ہے اور وہ سفری راستے کی کسی بھی طرح کی پرواہ کئے بغیر اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔ یہی مثال ہم مسلمانوں کی بھی ہے کہ ہمارا مقصد تو منزل پر پہنچنا ہی ہوتا ہے مگر کئی ایسے ہوتے ہیں جو آدھ راستہ ہی میں اپنی منزل پر جانے والی گاڑی کو کھو بیٹھتے ہیں مگر کچھ وہ ہوتے ہیں جو نظامِ اسلام کے نفاذ یعنی غلبہِ اسلام کے لئے ہمہ تن مصروفِ عمل رہتے ہیں کیونکہ اُن کا اِس پر کامل ایمان ہوتا ہے کہ اگر ہم نے اس ہمت اور کوشش سے بے وفائی کی تو ہم دنیا و آخرت میں ناکام ٹھہریں گے کیونکہ منزل کے راہی ان لوگوں کو یہ پختہ یقین ہوتا ہیکہ یہ کوشش اور محنت اس تسلسل کا نام ہے جو حضرت محمد صلیٰ اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے اپنے اصحابِ کرامؓ و اہلبیتِ عظامؓ کے توسط سے قیامت کی صبح تک آنے والے لوگوں کے لئے پیغام اور دعوت پہنچانے کا فرض نبھانا تھا، اور اگر ہم اِسی فرض کی ادائیگی پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ ہمیں بھی کامیاب فرمائیں گے۔
یہ سچ ہے کہ سحر تک نہ رہیں ہم شاید
مگر یہ طے ہے کہ سحر ہو کے رہے گی
آج سے 1445 سال پہلے کے غلبہِ اسلام کی اِسی محنت میں اپنا کردار شامل کرنے کے لئے 23 سال قبل 11 جنوری 2002 کے دن مدارسِ عربیہ اور عصری تعلیمی اداروں کے ان طلبہ کرام، جن کے دلوں میں نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عشق رچا بسا تھا اُنہوں نے مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی اور یہ عہد کیا کہ ہم پاک سر زمین پر نبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ و اہلبیت عظامؓ کے اسلام کو نہ صرف نافذ کرنے کی ہر کوشش کریں گے بلکہ ان کے ناموس کے تحفظ کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
جن میں تنہا چلنے کے حوصلے ہوتے ہیں
ایک دن انہی کے پیچھے قافلے ہوتے ہیں
11 جنوری کے اس اجلاس میں قمرالزمان چوہدری مرحوم، ملک مظہر جاوید، اور صفدر صدیقی جیسے قابلِ تقلید درجن بھر افراد گویا یہ عہدکر رہے تھے کہ ہم نے راستہ کی رکاوٹوں کو بغیر خاطر میں لائے اپنی پوری زندگی اس نظام اور عشق و دفاع کے اس سفر کے لئے وقف کریں گے۔ گزرے ہوئے یہ بائیس سال اس بات کے گواہ ہیں کہ MSO کے قائدین و کارکنان نے اپنے مشن سے وفا کرتے ہوئے ہرموقع پر تحفظ ختمِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم، ناموسِ صحابہ و اہلبیت، طلبہ حقوق کی پاسداری اور مظلوم مسلمانوں کی داد رسی کے پرچم کو ہمیشہ لہرائے رکھا اور نادان مسلمانوں و ظالم کافروں کو یہ باور کروایا کہ ہم ان کے نام لیوا ہیں جو ایک ہزار کے مقابل 313 میدان میں اترے تھے اور آقا صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم نے دعا فرمائی تھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ: اے اللہ! آپ کے اور میرے یہ جانباز و جانثار آج ناکام ہو گئے یا ختم ہو گئے تو قیامت تک آپ کا نام لینے والا کوئی نہیں ہو گا۔“پھر وقت نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سرخرو لوٹایا تھا۔
چراغِ حق کی لو پر شباب آئے گا
ستم گروں پہ یقیناً عذاب آئے گا
قدم نہ ہٹانا ستمگروں کے رستے سے
تمہارے دم سے نیا انقلاب آئے گا
آج کے کارکنوں سے حالات تقاضا بھی کر رہے ہیں اور آج تجدیدِ عہد بھی کریں کہ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ واہلبیتؓ کی زندگیوں کو اپنے اوپر نافذ کریں، تعلیم کے بہترین مواقع مت گنوائیں، جسمِ واحد کی طرح دوسرے مسلمانوں کی تکلیف کو محسوس کریں اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ہر مسلمان سمیت اپنے حلقہِ احباب میں جماعتی دعوت و فکر کو پھیلائیں اِسی میں آپ کے لئے ابدی بقا ہے اور یہی کامیابی ہے۔
Related Post
حضرت شیخ الہندؒ کے خوابوں کی تعبیر – عبدالرؤف چوہدری
Jan 27, 2025
0 Comments

ناظم اعلیٰ ایم ایس او پاکستان ارسلان کیانی کا 24 واں یوم تاسیس حی علی القرآن کے موقع پر سکیجول
Jan 11, 2025
0 Comments