راہ عزیمت کے تیئس سال
تحریر: عثمان فاروقی،کراچی
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ملک عزیز کی بھاگ دوڑ ہر دور میں عصری تعلیم یافتہ لوگوں میں رہی ہے اور اسلام اور بنیادی اسلامی نظریات سے نابلد ہونے کی وجہ سے کلیدی عہدوں پر فائز لوگوں نے اسلام کے بجائے ہمیشہ اپنی ذات اور دنیاوی مفادات کو ترجیح دی ہے، جس نے حالات بد سے بدتر بلکہ ابتر کرکے رکھ دیئے ہیں۔
ہمارے حکمرانوں نے اس ملک کو امریکی کالونی بنانے میں کوئی کسر اٹھا رکھی اور نہ ہی یہاں مغرب ویورب کے مادر پدر آزاد تہذیب کی ترویج میں کوئی دقیقہ فروگزاشت کیا ہے۔ دینی مدارس اور اس کے متعلقین کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت صرف تدریس وخطابت تک محدود کرکے رکھ دیاگیا تھا، جس کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ بڑے اداروں میں نہ ہونے کے برابرہے۔ آج سے تئیس سال پہلے چند نوجوانوں نے، جن میں کچھ دینی اور کچھ عصری اداروں کے فیض یافتہ تھے، اس بات پر غور کیاہے کہ ملا اور مسٹر کے درمیان دانستہ حائل کی جانے والے اس خلیج کے خاتمے کیلئے کیا کیاجانا چاہیے، طویل غور وخوض کے بعد ان کے سامنے مسئلے کی جوبنیادی وجہ تھی وہ یہ کہ دونوں طبقوں کو قریب لانے کیلئے ان کے درمیان رابطے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی، جس کے نتیجے میں عصری تعلیمی اداروں میں عملا دینی طبقے کا اثر و رسوخ ختم ہوکر رہ گیاہے۔
مستقبل کے معماروں کو دینی سوچ سے قصدا دور رکھا گیاہے، دوسری طرف دینی اداروں سے وابستہ طلبہ بھی بسم اللہ کے گنبد سے باہر آنے کو تیار نہیں ہیں،وہ اپنی دنیا میں مگن ومطمئن ہیں، وہ اس ذہنی ارتداد اور کفری یلغارسے آگہی نہیں رکھتے جو عصری اداروں میں برپا کی گئی ہے۔سرجوڑ کر بیٹھنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ ایک ایسی طلبہ تنظیم قائم کی جائے، جو دینی اور عصری دونوں اداروں میں کام کرے، اس کے ذریعے دونوں طبقات کو قریب لایاجائے اور ان دونوں طبقات کے درمیان حائل ہونے والی جو اجنبیت ہے اس کا خاتمہ کیاجائے۔
اللہ کے بھروسے پر سوئے منزل سفر شروع کردیاگیا، آج الحمد اللہ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی محنت صرف دینی مدارس میں نہیں بلکہ ملک بھر کی تقریبا ہر بڑی جامعہ، کالج اور ینورسٹی میں زور شور سے جاری ہے۔ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے ہر میدان میں اول دستے کا کردار ادا کیاہے۔ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن تمام طلبہ تنظیموں سے استواری اور متحدہ جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایک واضح دستور، منشور اور لائحہ عمل رکھتی ہے، ایم ایس او طلبہ کی درست فکری تربیت کیلئے ایک مکمل نصاب کی حامل ہے اور ہر ایشو پر مختلف سیمینارز اور کانفرنسز کے ذریعے طلبہ کی رہنمائی کرتی ہے، ایم ایس او نظام خلافت راشدہ کے نفاذ کی داعی اور اسی کیلئے فکری و نظریاتی جدوجہد میں مصروف عمل ہے۔
ایم ایس او سمجھتی ہے کہ اداروں میں فساد کی وجہ وہاں دین دشمن نااہل لوگوں کی موجودگی ہے، جس کے مقابلے میں ایم ایس او تمام اداروں کو صالح افراد فراہم کرنے کیلئے تعلیمی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور ہر قسم کے ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کرتی ہے، ایم ایس او نظام ونصاب تعلیم میں پائے جانے والے نقائص کی نشاندھی اور ان کی اصلاح کیلئے عملی طور پر بیداری شعور اور آئینی جدوجہد پر کاربند ہے، ایم ایس او خصوصی تربیتی نشستوں کے ذریعے اپنے کارکنان کی نظریاتی، فکری و عملی تربیت کے اصول پر عمل پیرا ہے، جس کے انتہائی مفید نتائج چند سالوں میں ہی سامنے آئے ہیں، ایم ایس او ملک میں حب الوطنی اور استحکام پاکستان کی جدوجہد کیلئے دن رات کوشاں ہے جس کے لیے مختلف اجتماعات کا انعقاد کیاجاتا ہے،میڈیاوار کے اس دور میں شدت پسندی کے بجائے دلائل پر یقین رکھتی ہے، اور اسلام کے دفاع وحفاظت کیلئے میڈیا کے درست استعمال کی حامی وداعی ہے، ایم ایس او جمود کے بجائے جہد مسلسل پر یقین رکھتی ہے، ہم اللہ تعالیٰ کے حضور سراپا شکرو سپاس ہیں کہ اس نے صرف تیئس سالوں میں ہی ہمیں توقعات سے بڑھ کر کامیابیوں وکامرانیوں سے نوازا ہے، جس میں ایم ایس او کے کارکنان کی جدوجہد، قیادت کی تگ ودو اور اکابرکا اعتماد سب عوامل شامل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This field is required.

This field is required.