ایم ایس او کیا ہے اور کیا چاہتی ہے؟
تحریر: عبدالرؤف چوہدری

مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ایک خود مختار نظریاتی وفکری طلبہ تنظیم ہے، جس کی بنیاد 11 جنوری 2002 کو عظیم صحافی، نامور قلم کار برادر قمر الزمان چوہدری مرحوم نے اپنے چند صالح، باکردار، پرعزم اور باہمت نوجوان دوستوں کے ساتھ مل کر رکھی، ان نوجوانوں نے اپنا کل آنے والی نسلوں کے آج کے لیے قربان کر دیا۔ ایم ایس او پاکستان وہ واحد طلبہ تنظیم ہے جو دینی وعصری اداروں میں یکساں طور پر کام کر رہی ہے اور دینی وعصری طلبہ میں علمی اور عملی اعتبار سے احساس ذمہ داری بیدار کر رہی ہے۔ ایم ایس او پاکستان طلبہ تنظیموں کے روایتی انداز سے ہٹ کر طلبہ کی فکری ذہن سازی اور علمی کردار سازی پر محنت کر رہی ہے۔ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اسلحہ کلچر کے فروغ کی بجائے اساتذہ ودرسگاہ کے تقدس کو اجاگر کرنے کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے۔ طلبہ کو اسلامی شعور سے روشناس کرواتے ہوئے اساتذہ کے حقیقی مرتبے کی پہچان کرا رہی ہے۔ ایم ایس او پاکستان ایک شعور بیداری کی تحریک، فلاح وتقوی کی صدا اور کردار سازی کی علامت ہے۔

نصب العین:۔
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ایک عالمگیر نصب العین رکھتی ہے اور وہ نصب العین ”غلبہ اسلام واستحکام پاکستان“ ہے۔ ایم ایس او پاکستان ”غلبہ اسلام“ اس لیے چاہتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں، اور ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد ”غلبہ اسلام“ تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جگہ جگہ بیان فرمایا ہے۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، آپ پر نبوت ورسالت ختم ہوگئی، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے مقصد کے لیے کوشش کرنا، اس کے غلبہ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ اور ایم ایس او پاکستان وطن عزیز پاکستان کو ایک مستحکم ریاست بنانے چاہتی ہے، وطن عزیز پاکستان کی بنیاد لا الہ الا اللہ کے نعرے یعنی اسلام پر رکھی گئی، بانیان پاکستان میں سے ہر ایک کے خیالات واحساسات کو تاریخ کے دریچوں میں الٹ پلٹ کر دیکھا جائے تو واضح طور پر یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کی وہ پاکستان کو مثالی، فلاحی اور اسلامی ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ ایم ایس او پاکستان اس مقصد کے حصول کے لیے خالی نعروں پر یقین نہیں رکھتی بلکہ عملی طور پر نوجوانوں کی ایک کھیپ تیار کر کے معاشرے میں بھیجنا چاہتی ہے کہ جو معاشرے میں پھیلے ہوئے ناسور کو ختم کرنے کے لیے سنگ میل ثابت ہوں۔ اور پاکستان کا استحکام حقیقی معنوں میں اس نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہے جس نظام کا نعرہ لگا کر یہ ملک حاصل کیا گیا۔ الغرض ایم ایس او پاکستان پوری دنیا میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص غلبہ اسلام کی صورت میں قرآن وسنت کی بالا دستی چاہتی ہے اور اس کی عملی شکل تاریخ اسلام میں دور خلافت راشدہ ہے۔اور ایم ایس او یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کی نظریاتی وجغرافیائی بنیادوں کا استحکام قرآن وسنت کی بالادستی میں ہی مضمر ہے۔

اغراض ومقاصد:
تحفظ ناموسِ رسالت وصحابہ کرامؓ
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آنے والی نسلوں کے ہاں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم وناموس صحابہ واہلبیت رضی اللہ عنھم کی حیثیت قائم کرنا اور ان کے تحفظ کا جزبہ سرایت کرنا چاہتی ہے۔ ایک مسلمان ہونے کے ناطے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی عزت واکرام حد درجہ کمال ہمارے دلوں میں ہونا ضروری ہے۔ اپنے نوجوانوں کو سیرت طیبہ اور حضرات صحابہ کرامؓ کی پاکیزہ زندگیوں سے روشناس کرا کر عملی زندگی میں ان مقدس شخصیات کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہتی ہے۔ ایم ایس او یہ چاہتی ہے کہ ناموس رسالت وناموس صحابہؓ کے تحفظ کے سلسلے ميں اولاً یہ اقدام کرنا ہوگاکہ ہم عملاً ان حضرات کی سیرت وکردار کو اپنائیں تاکہ خود اپنی زندگی میں ان کی ناموس کا تحفظ یقینی بنائیں۔

ملّا ومسٹر کی تفریق کا خاتمہ:
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ملّا ومسٹر کی تفریق کا خاتمہ چاہتی ہے اور ان دونوں گروہوں کو سابقہ ادوار کی طرح ایک مالا میں پرو کر ایک دوسرے کے دست وبازو بنانا چاہتی ہے۔ ملا ومسٹر کے درمیان اس وسیع خلیج کا بیج ایک مخصوص منصوبہ بندی کے تحت بویا گیا اور ایسی نفرتیں پھیلائی گئیں کہ ان دونوں علمی گروہوں کو ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑا کر کے یہ تاثر قائم کر دیا گیا کہ دونوں گروہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ وہ میرا دشمن ہے۔ اس خلیج کے خاتمے کے لیے آزادی ہند کے ہیرو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ نے عملی اقدامات کیے۔ حضرت شیخ الہندؒ جب مالٹا کی اسیری کاٹ کر رہا ہوئے تو آپ بنفس نفیس علی گڑھ یونیورسٹی تشریف لے گئے اور وہاں ملا ومسٹر کی تفریق کے خاتمہ کے لیے جو آپ کے تاثرات بیان کیے گئے وہ سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ آج ایم ایس او پاکستان حضرت شیخ الہندؒ کی اسی سوچ وفکر کی آبیاری کرتے ہوئے ان دونوں گروہوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کے لیے مصروف عمل ہے۔

طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ اور یکساں نظام تعلیم احیاء:
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن روز اول سے ہی طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ چاہتی ہے اور یکساں نظام تعلیم کا احیا چاہتی ہے۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ آج ہر ادارے کا اپنا نصاب تعلیم ہے۔ پاکستان میں بیس کے لگ بھگ نصاب پڑھائے جا رہے ہیں۔ یہاں امیر کے لیے الگ نصاب ہے اور غریب کے لیے الگ نصاب ہے۔ MSO پاکستان اس طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ چاہتی ہے۔ MSO کا مطالبہ ہے کہ نظریہ پاکستان، جذبہ حب الوطنی، متوازن طرز حیات، اسلامی اقدار اور مشرقی روایات سے مزین ایک قومی اور فکری نصاب تعلیم تشکیل دیا جائے کیونکہ طبقاتی نظام تعلیم معاشرے میں عدم توازن اور طبقاتی تفریق کو جنم دے رہا ہے۔

مذکورہ اغراض ومقاصد کے ساتھ ساتھ مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن قومی، لسانی اور مسلکی تعصبات سے بالاتر ہوکر اعتدال پسند اسلامی معاشرے کا قیام چاہتی ہے کیونکہ قومیت، لسانیت اور مسلکی بے راہ روی مختلف قوموں میں تبدیل کر دیتی ہیں جبکہ MSO پوری امت مسلمہ کو ایک ہی قوم بنانے کے لیے سرگرم ہے۔
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن مغربی یلغار کی روک تھام چاہتی ہے اور اپنے نوجوان طبقے کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ایک مسلمان کی کامیابی مغربی کلچر میں نہیں بلکہ چودہ سو سال قبل آنے والے نظام میں ہے جس نے ہمیں حقیقی معنوں میں ایک دستور حیات دیا۔
مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن طلبہ کی اسلامی، نظریاتی، اخلاقی، فکری تربیت چاہتی ہے اور اساتذہ ودرسگاہ کے تقدس کو اجاگر کرکے طبہ برادری میں اساتذہ اور درسگاہ کے مقام کو اجاگر کرنا چاہتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This field is required.

This field is required.